- Get link
- X
- Other Apps
- Get link
- X
- Other Apps
خوش بہت ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے پھرتے
کام نکلا تو ہے ان کا مجھے رسوا کر کے
روک رکھنا تھا ابھی اور یہ آواز کا رس
بیچ لینا تھا یہ سودا ذرا مہنگا کر کے
اس طرف کام ہمارا تو نہیں ہے کوئی
آ نکلتے ہیں کسی شام تمہارا کر کے
مٹ گئی ہے کوئی مڑتی ہوئی سی موج ہوا
چھپ گیا ہے کوئی تارا سا اشارا کر کے
فرق اتنا نہ سہی عشق و ہوس میں لیکن
میں تو مر جاؤں ترا رنگ بھی میلا کر کے
صاف و شفاف تھی پانی کی طرح نیت دل
دیکھنے والوں نے دیکھا اسے گدلا کر کے
شوق سے کیجیے اور دیر نہ فرمائیے گا
کچھ اگر آپ کو مل جائے گا ایسا کر کے
یوں بھی سجتی ہے بدن پر یہ محبت کیا کیا
کبھی پہنوں اسی ملبوس کو الٹا کر کے
مجھ سے چھڑوائے مرے سارے اصول اس نے ظفرؔ
کتنا چالاک تھا مارا مجھے تنہا کر کے
Comments
Post a Comment